اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ کوئی پاکستانی نا غدار ہو سکتا ہے نا میر جعفر۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے صحافیوں پر درج مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ وکیل نے بتایا ان کے موکل پر دس مقدمات درج ہو چکے ہیں، دس پندرہ شکایت کنندہ سامنے آئے جنہوں نے ایک ہی دفعہ یہ مقدمات درج کروائے۔

عدالت نے پوچھا کہ کیا کسی شہری کی دل آزاری ہوئی ہے جو انہوں نے مقدمات درج کروائے ہیں؟۔
وکلا نے جواب دیا کہ حیران کن طور پر دس سے پندرہ شہریوں کی اچانک دل آزاری ہوگئی ہے، کاپی پیسٹ مقدمات ہیں، کہا جا رہا ہے کہ اداروں کے بارے میں میر جعفر اور میر صادق کا نام لیا گیا ہے، ایف آئی آر میں بغاوت پر اکسانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ بڑا عجیب ہے غداری کا لیبل لگانا ، کوئی پاکستانی نا غدار ہو سکتا ہے نا میر جعفر ، یہاں ہماری تاریخ میں محب وطن لوگوں کو غدار کہا گیا بعد میں جنہوں نے کہا ان کو شرمندگی بھی ہوئی، اس لیے ہمیں کسی کو غدار کہتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے، اس ملک میں غداری کا الزام لگانا بہت آسان ہے لیکن کوئی پاکستانی غدار نہیں ہے اور نہ ہی میر جعفر یا میر صادق ہے، میر جعفر اور میر صادق والی گردان اب ختم ہونی چاہیے۔

وکیل نے سوال اٹھایا اچانک ایسا کیا ہو گیا کہ ملک کے بہترین صحافیوں کے خلاف کیسز درج ہونا شروع ہو گئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہ آرڈر کر دیتے ہیں کہ کورٹ کی اجازت کے بغیر کسی صوبے کو کسٹڈی نہ دی جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ سمیع ابراہیم ، ارشد شریف ، معید پیر زادہ کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں مقدمات درج ہوئے، مقدمات میں ریاست خود فریق نہیں بلکہ عام شہریوں نے درخواستیں دی ہیں، پٹشنرز صحافت کے شعبہ سے وابسطہ ہیں جن کے خلاف کرمنلز کیسز کا اندارج کیا گیا، صحافیوں کے خلاف کرمنل کیسز کے اثرات بھی ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکرٹری داخلہ اور سیکریٹری انسانی حقوق کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے صوبوں سے مقدمات کی رپورٹس منگوانے کی ہدایت کردی۔

اسلام آبادہائیکورٹ نے عدالت کی اجازت کے بغیر صحافیوں ‏ارشد شریف، سمیع ابراہیم، معید پیر زادہ کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com